Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو میں گردن کا مسح بدعت ہے یا مستحب؟

Question

گردن کا مسح کرنا بدعت ہے ؟ اس کا ثبوت کہاں سے ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات کافی گردش کر رہی ہے کہ گردن کا مسح کرنا، درست نہیں ہے ، بدعت ہے ، بعض لوگ یہ کہتے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ گردن کے مسح کا ثبوت دین میں کہیں بھی نہیں ہے ، ضعیف روایت میں تو کیا ؟ کسی موضوع اور جھوٹی روایت میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ برائے کرم بتائیے کہ کیا واقعی گردن کا مسح کرنا ، غلط اور بدعت ہے اور قرآن وحدیث میں کہیں بھی گردن کے مسح کا ذکر نہیں ؟ جواب سائل : عبدالرحیم (فیصل آباد)

Answer (beginning)

وضو میں سر کے مسح کے ساتھ گردن کا مسح کرنا ، ناصرف جائز، بلکہ مستحب ، کار ثواب اور احادیث طیبہ ، آثار صحابہ ، اقوال ائمہ اور عبارات فقہاء سے ثابت ہے ، دین اسلام میں اس کے وجود کا سرے سے ہی انکار کرنا ، اسے غلط و بدعت قرار دینا ، علوم حدیث سے ناواقفیت اور فقہی روایات سے نابلد ہونے کی دلیل ہے ۔ نیز یہ یا درہے کہ احناف کے نزدیک گردن کا مسح کرنا ، فرض و واجب نہیں، بلکہ مستحب اور فضیلت والا عمل ہے اور کسی مستحب عمل کے لیے حدیث صحیح یا حسن کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ حدیث ضعیف سے بھی کسی عمل کی فضیلت اور اس کا استحباب ثابت ہو جاتا ہے جب کہ گردن پر مسح کے متعلق ایک نہیں، کئی قولی و فعلی احادیث و آثار…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.