Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرہ پر جانے والا قصر نماز پڑھے گا ؟
- Fatwa no.
- 9481-Fsd
- Issued
- 02 ربیع الاول 1447ء / 27 اگست 2025
Question
عمرہ پر جانے والا نمازیں پوری پڑھے گا یا قصر ؟ دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص 28 روزہ پیکج کے تحت عمرہ کے لیے سفر کرے ، جس میں اس کا قیام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بالترتیب 10 ، 10 دن ہو اور پھر بقیہ 8 دن وہ دوبارہ مکہ مکرمہ میں گزارے ، تو شریعت کی رو سے ایسے شخص کے لیے نمازوں کا کیا حکم ہوگا ؟ یعنی مکمل نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
شرعی مسافر کسی بھی شہر میں مسلسل 15 یا 15 سے زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلے ، تو وہ وہاں پہنچ کر مقیم ہو جاتا ہے اور مقیم شخص پوری نماز پڑھتا ہے ۔ اور اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہو تو وہ مسافر ہو گا اور مسافر قصر نماز پڑھے گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر 28 دن کے عمرہ پیچ میں پہلے مکہ شریف میں 10 دن گزارنے ہوں اور اس کے بعد مدینہ شریف میں 10 دن گزارنے ہوں اور پھر دوبارہ بقیہ 8 دن مکہ شریف میں ہوں ، تو چونکہ ایسی صورت میں کسی بھی جگہ مسلسل پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں ہے، تو اس لیے مکہ اور مدینہ دونوں شہروں میں قصر نماز پڑھے گا۔ نوٹ : یہاں دنوں " کے لفظ سے مراد راتیں ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.