Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی یا حلق سے پہلے طوافِ زیارت کرنا کیسا؟

Question

حاجی نے قربانی اور حلق سے پہلے ہی طواف زیارت کر لیا تو کیا حکم ہے ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی حاجی نے 10 ذوالحجہ کو مٹی میں رمی کرنے کے بعد حالت احرام میں ہی یعنی قربانی یا حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا ، تو کیا اس پر دم لازم ہوگا ؟ سائل : عبد الله منهاس (جھنگ) جواب

Answer (beginning)

احکام شریعت کے مطابق ترتیب صرف افعال ثلاثہ (زمی، قربانی اور حلق یا تقصیر) میں واجب ہے ، یعنی حج قرآن اور حج تمتع کرنے والے کے لئے رمی ، قربانی اور حلق یا تقصیر میں ترتیب قائم رکھنا واجب ہے اور حج افراد والے پر چونکہ قربانی واجب نہیں ، اس لئے اُس پر فقط رزمی اور حلق یا تقصیر میں ترتیب واجب ہے ۔ اگر کسی حاجی نے مذکورہ افعال میں ترتیب کی خلاف ورزی کی ، تو ترک واجب کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا، جبکہ طواف زیارت اور افعال ثلاثہ (زمی، قربانی اور حلق یا تقصیر) میں ترتیب واجب نہیں، بلکہ سنت ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی حاجی نے قربانی یا حلق سے پہلے ہی طواف زیارت کر لیا ، تو اس کا طواف ہو جائے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.