Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفلی حج و عمرہ دوسرے کی طرف سے کروا سکتے ہیں؟

Question

نقلی حج یا عمرہ کسی دوسرے کی طرف سے کروایا جاسکتا ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس طرح چند شرائط کی موجودگی میں کوئی شخص اپنا حج بدل، کسی کو نائب بنا کر کرواسکتا ہے ، اسی طرح کیا عمرہ یا نظمی حج بھی کوئی اپنی طرف سے دوسرے سے کرواسکتا ہے ؟ اگر کروا سکتا ہے تو اس کی کیا شرائط ہیں؟ نیز یہ نفلی حج یا عمرہ ، افعال ادا کرنے والے طرف سے ادا ہوگا اور بھیجنے والے کو صرف ثواب ملے گا؟ یا ج و عمرہ کی ادائیگی ہی بھیجنے والے کی طرف سے قرار پائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

عمرہ یا نفلی حج میں بھی کسی کو اپنا نائب بنایا جاسکتا ہے اور اس کیلئے حج بدل والی شرائط میں سے کوئی بھی شر ط ضروری نہیں ہے ۔ نیز بھیجنے والے نے جب خرچہ اسی لئے دیا کہ میری طرف سے نفلی حج یا عمرہ کیا جائے تو اسی کی طرف سے ہی ادائیگی کی نیت کرنا ضروری ہوگا، ورنہ اس کے قول کی مخالفت لازم آئے گی اور خرچے کا تاوان بھی لازم آئے گا ، جب بھیجنے والے کی طرف سے نفلی حج یا عمرہ کی نیت کی جائے گی تو ادا ئیگی بھی اسی بھیجنے والے کی طرف سے ہی ہوگی، افعال ادا کرنے والے کی طرف سے ادا ئیگی نہیں ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.