Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا خبرِ واحد حجت ہے؟

Question

خبر واحد حجت ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا خبر واحد " حجبت ہے ؟ نیز آج کل بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم صرف قرآن اور سنت متواترہ کو مانتے ہیں، خبر واحد تو محض قصے کہا نیاں ہیں ، جن پر دین کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ ان لوگوں کا یہ موقف شرعی طور پر کیسا ہے ؟ قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔ جواب

Answer (beginning)

آیات قرآنیہ ، احادیث طیبہ ، اجماع صحابہ اور بالعموم اجماع امت کی روشنی میں "خبر واحد حجبت " ہے ۔ عقائد و عبادات سے متعلقہ بے شمار تفصیلات انہی اخبار آحاد سے ثابت ہوتی ہیں ، لہذا یہ دعویٰ کہ صرف قرآن اور سنت متواترہ ہی حجت ہیں اور خبر واحد محض قصے کہانیاں ہیں ، در حقیقت دین کی بنیادوں پر ایک شدید حملہ ہے ، جسے علماء امت نے قرونِ اولیٰ سے ہمیشہ مسترد کیا ہے ۔ یہ نعرہ لگانے والے اسے اپنی طرف سے بڑا علمی اور محتاط قرار دیتے ہیں، نیز ایسا نظریہ رکھنے والے اپنی تحریر و تقریر میں بڑے شاطرانہ انداز میں اسے ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، لیکن در حقیقت اس کی آڑ میں شریعت کے ایک وسیع اور ناگزیر حصے کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.