Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نیل پاؤڈر ملے ہوئے پانی سے وضو یا غسل ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ کی رُو سے جب صاف پانی میں کوئی ایسی چیز ملائی جائے کہ جس سے مقصود جسم یا کپڑوں سے میل صاف کرنا ہو یا زیادت نظافت (مثلا: کپڑے کو مزید اجلا کرنا، نکھار ناوغیرہ) ہو ، تو اس سے وضو و غسل جائز ہے، اگر چہ اس سے پانی کا کوئی وصف (رنگ، بو یاذائقہ تبدیل ہو جائے کہ اسے پانی ہی کہا جائے گا، جبکہ پانی کی رقت وسیلان ( بہاؤ ) میں کوئی فرق نہ آئے۔ مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے ، تو پانی میں ڈالا جانے والا نیل پاؤڈر محض کپڑے میں ہلکا سائیلا پن دینے کے لیے ہوتا ہے، جو حقیقتا کپڑے ہی کی پیلاہٹ کو دور کرنے اور سفیدی کو نمایاں و نکھارنے کے لیے ہوتا ہے، نیز اس سے پانی کی رقت وسیلان میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.