Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی تعمیر میں کوئی غیر مسلم خود سےچندہ دے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
2168-Web
Issued
29 شعبان المعظم 1446 هـ / 28 فروری 2025. DaruliftaAhlesunnat

Question

مسجد کی تعمیر میں کوئی غیر مسلم خود سے چندہ دے ، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مسجد کی تعمیرات میں اگر کوئی غیر مسلم خود سے چندہ دینا چاہے ، تو اس سے چندہ لے کر مسجد کی تعمیرات میں لگا سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر غیر مسلم مسجد میں چندہ اس لیے دیتا ہے کہ مسلمانوں پر احسان جتائے یا مسجد کے معاملات میں دخل اندازی کر سکے تو اس سے چندہ لینا نا جائز ہے اور اگر نیازمندانہ طور پر پیش کرے تو لینے میں کوئی حرج نہیں جبکہ آئندہ بھی اس سے مسجد پر احسان جتانے یا مسجد کے معاملات میں دخل اندازی کا گمان نہ ہو۔ جس صورت میں اس سے رقم لینا جائز ہے، اس صورت میں بھی رقم کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے بلکہ مسلمان خود خرید میں ۔ ایسی صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ کافر رقم مسلمان کو گفٹ کر دے اور مسلمان مسجد میں لگا دے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.