Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین افراد نے رقم ملا کر کام شروع کیا، اب ختم کرنا چاہتے ہیں، تو سرمایہ کس طرح تقسیم ہوگا
- Fatwa no.
- 2139-Web
- Issued
- 16 رجب المرجب 1446ھ / 17 جنوری 2025ء
Question
ہم تین دوستوں نے مل کر ایک کام شروع کیا، جس میں ایک کے 25 ہزار، ایک کے 15 ہزار اور ایک نے 8 ہزار دئیے ، اب ہم کاروبار ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس وقت کا روبار کا کل سرمایہ 20 ہزار ہے ، تو کس طرح آپس میں تقسیم کریں؟ جواب
Answer (beginning)
اگر واقعی عقد شرکت درست شرعی اصولوں پر ہوا تھا اور اب نقصان ہو گیا ہے ، تو جس کا جتنا سرمایہ تھا، اتنے فیصد ہی وہ نقصان برداشت کرے گا، یہ رقم برابر تقسیم نہیں ہوگی بلکہ ہر ایک کو اس کے سرمایہ کے مطابق نقصان کاٹ کر ملے گی ۔ بہارِ شریعت میں ہے : " نفع میں کم و بیش کے ساتھ بھی شرکت ہو سکتی ہے مثلاً ایک کی ایک تہائی اور دوسرے کی دو تہائیاں اور نقصان جو کچھ ہو گا وہ رأس المال (سرمائے) کے حساب سے ہو گا اسکے خلاف شرط کرنا باطل ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.