Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کوئی تشہد میں بیٹھتے ہوئے پاؤں بچھا دے، تو کیا حکم ہے

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2138-Web
Issued
26 رجب المرجب 1446ھ /27 جنوری 2025ء

Question

کوئی تشہد میں بیٹھتے ہوئے پاؤں بچھا دے، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص تشہد میں پاؤں کھڑا نہ رکھ سکتا ہو، تو کیا پاؤں کو بچھا سکتا ہے؟ جواب

Answer (beginning)

مردوں کے لیے تشہد میں سیدھا پاوں کھڑا رکھنا اور الٹا پاوں بچھا کر اس پر بیٹھنا سنت ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس کو ترک کیا جاسکتا ہے ۔ عذر کی صورت میں نماز بلا کراہت ہو جائے گی ۔ صد الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ تشہد کی سنتوں کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " (۶۷) دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر، (۶۸) دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا ، (۶۹) اور داہنا قدم کھڑا رکھنا، (۷۰) اور داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ کرنا یہ مرد کے لیے ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.