Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت مانی ہوئی چیز بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
3399-Gul

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کوئی منت مانے اور اس کے بعد اس کا مقصد پورا بھی ہو جائے، لیکن اب اسے یاد نہ رہے کہ منت روزوں کی تھی یا نماز کی یا کسی اور چیز کی ، البتہ یہ حتمی طور پر معلوم ہو کہ کوئی منت مانی تھی، تو اب اس منت سے بری الذمہ ہونے کی کیا صورت ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں منت ماننے والے شخص پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا۔ قسم کا کفارہ لازم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص منت مانے ، لیکن جس چیز کی منت مانی ہے اس چیز کو ذکر نہ کرے، تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوتا ہے اور جس کو شک ہو کہ اس نے نماز ، روزے وغیرہ میں سے کس چیز کی منت مانی تھی، یہ متعین معلوم نہیں ہے ، اس شخص کا بھی فقہائے کرام نے وہی حکم بیان کیا ہے ، جو منت میں کسی چیز کو ذکر نہ کرنے والے کا ہے یعنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہناتا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.