Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سادات کو زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ اور ان کا آپس میں ایک دوسرے کو زکوٰۃ دینے کا حکم؟

Fatwa no.
7564-Pin
Issued
04 رمضان المبارک 1446ھ / 05 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سادات کرام اور بنو ہاشم کو ز کوۃ نہیں دے سکتے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ نیز کیا یہ اپنی زکوۃ اپنے رشتہ داروں کو دے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

سائل: محمد بدرالدین (جوہر ٹاؤن،لاہور) ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ساداتِ کرام اور بنو ہاشم کو زکوۃ دینا حرام ہے۔ اب دینے والا چاہے سید ہویا ہاشمی یا ان کے علاوہ کوئی اور ، بہر صورت حکم یکساں ہے، لہذا سید ہاشمی اپنی زکوۃ دوسرے سید ہاشمی کو بھی نہیں دے سکتے ، اگر دیں گے، تو اداہی نہیں ہوگی۔ بنو ہاشم سے مراد پانچ خاندان ہیں: آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر ، آلِ عقیل، آلِ حارث بن عبد المطلب (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.