Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ کا حکم اور مالِ تجارت کے بدلے خریدے گئے برتنوں پر زکوٰۃ کا حکم؟

Answer (beginning)

اس پر علامہ شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”قال في الأشباه وهو أفضل من غيره أي لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمةالمديون “ترجمہ : اشباہ میں فرمایا کہ یہ طریقہ اس کے غیر سے افضل ہے یعنی اس وجہ سے کہ یہ مدیون کے ذمہ کو قرض سے بری کرنے کا ذریعہ ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزكاة، ج02، ص 271، دار الفكر - بيروت) مالِ تجارت کے بدلے کوئی سامان گھریلو استعمال کیلئے خریدا تو اس سامان پر زکاۃ نہیں، چنانچہ علامہ کا سانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ” لواشتری عینا من الأعيان ونوى أن تكون للبذلة والمهنة دون التجارة لا تكون للتجارة سواء كان الثمن من مال التجارة أو من غير مال التجارة؛ لأن الشراء بمال التجارة…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.