Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ تعالیٰ کو طبیب کہنا کیسا؟ تفصیلی فتویٰ

Fatwa no.
9279-Fsd
Issued
12 رمضان المبارک 1446ھ / 13 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ پاک کو طبیب کہنا کیسا ؟ اور جن بعض روایتوں میں یہ لفظ ذکر ہوا اُن سے کیا مراد ہے؟

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کی روشنی میں بطور نام دعا میں یا دیگر مواقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کو ”یا طبیب “ کہہ کر پکارنا اور ” “ کہنا جائز نہیں۔ بطور نام ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسمائے باری تعالیٰ توقیفی ہیں، اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نام نہیں بول سکتے اور لفظ ”طبیب بطور نام اللہ تعالیٰ کے لیے قرآن و حدیث میں وارد نہیں۔ جہاں تک اُن روایات کا تعلق ہے جن میں یہ لفظ وارد ہوا، تو ان میں یہ لفظ بطور نام استعمال نہیں ہوا، بلکہ وہاں بھی یہ شافی مطلق اور عَالِمُ الأَمْرَاضِ وَحَقِيقَتِهَا“ کے معنی میں مستعمل ہے، لہذا ایسی احادیث کو دلیل بنا کر عمومی احوال میں اللہ تعالیٰ کو ”طبیب“ کے نام کے ساتھ پکارنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.