Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ساڑھے سات تولے سے کم سونے پر زکوٰۃ کا حکم

Fatwa no.
692-FAM
Issued
19 رمضان المبارک 1446ھ / 20 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شادی شدہ اسلامی بہن کے پاس تقریباً سات (7) تولہ سونا ہے، ان کے گھر میں خرچ وغیرہ کے لئے عام طور پر عورتوں کو رقم نہیں دی جاتی ہے ، بلکہ ضرورت کی چیزیں مرد حضرات خود ہی خرید کر دے دیتے ہیں، اس کے علاوہ کبھی والدین سے کچھ رقم اگر تحفے کے طور پر مل بھی جاتی ہے ، یا کبھی بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر کچھ پیسے آتے ہیں تو وہ بھی خرچ ہو جاتے ہیں، یعنی کچھ رقم پورا سال اُن کے پاس رہے ، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا اس اسلامی بہن پر زکوۃ فرض ہو گی ؟

Answer (beginning)

اگر سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو لیکن سونے کے ساتھ حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد اموال زکوۃ میں سے کوئی مال جیسے چاندی ، مالِ تجارت، پرائز بانڈ ، حاجت سے زائد کچھ بھی رقم اگر چہ سو پچاس روپے ہوں، تو ز کوۃ کیلئے نصاب میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا اعتبار ہو گا اور اس کے اعتبار سے زکوۃ فرض ہو گی۔ پھر زکوۃ کے واجب ہونے میں سال کے شروع اور آخر میں نصاب کا مکمل ہو ناضروری ہو تا ہے ، در میان سال میں اگر نصاب کم بھی ہو جائے تو اس کا اعتبار نہیں ہو تا ، لہذا اگر سال کے شروع اور آخر میں نصاب پایا جائے اور درمیان میں نہ ہو تو بھی زکوۃ فرض ہو گی بشر طیکہ کچھ نا کچھ مال موجود ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.