Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان سے پہلے درود نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دور میں نہیں تھا تو اب کیوں پڑھتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 689-FAM
- Issued
- 10 رمضان المبارک 1446ھ / 11 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟ قرآن وحدیث سے دلائل کے ساتھ جواب عطا فرمائیں۔ نیز دور رسالت و دور صحابہ میں تو اذان سے پہلے درود شریف نہیں پڑھا جاتا تھا، مگر اب پڑھا جارہا ہے ، تو کیا یہ بدعت نہیں ہو گا؟
Answer (beginning)
اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنا بالکل جائز بلکہ مستحب یعنی ایک اچھا عمل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ عز و جل نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھنے کے حکم میں کوئی قید بیان نہیں فرمائی کہ فلاں وقت پڑھو اور فلاں وقت نہ پڑھو، بلکہ مطلق بغیر کسی قید کے درود شریف پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، لہذا اذان سے پہلے، اذان کے بعد ، اقامت سے پہلے، اقامت کے بعد جب چاہیں درود شریف پڑھ سکتے ہیں، شرعا اس کی کوئی ممانعت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.