Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مچھر بھگانے کے لیے مسجد میں آل آؤٹ (لیکویڈ) لگانا کیسا؟

Fatwa no.
680-FAM
Issued
03 رمضان المبارک 1446ھ / 04 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد میں مچھر کو بھگانے کیلئے آل آؤٹ لگانا کیسا ہے؟ یہ ایک لیکویڈ ہوتا ہے جسے مشین میں لگا کر استعمال کیا جاتا ہے؟

Answer (beginning)

اگر وہ لیکویڈ بد بودار نہیں ہو تا تو اُسے مسجد میں لگا سکتے ہیں، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ لیکویڈ بد بودار ہو تو اس کو مسجد میں لگانا، جائز نہیں ہو گا، کیونکہ مسجد کو بد بو سے بچانا واجب ہے۔ چنانچہ سنن نسائی کی حدیث مبارکہ ہے: "عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من اكل من هذه الشجرة، قال اول يوم : الثوم ، ثم قال : الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مساجدنا، فان الملائكة تتاذى ممایتاذی منه الانس“ ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اس درخت سے کھائے، پہلے دن آپ نے لہسن کا فرمایا، پھر لہسن، پیاز اور گند نا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.