Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرعی سفر کے دوران کسی سے ملاقات کے لیے رکنے پر قصر نماز پڑھیں گے؟
- Fatwa no.
- 9284-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند افراد کا گجرات سے لاہور جانے کا پروگرام ہے ، مگر راستے میں گجرانوالہ کچھ علماء مشائخ سے ملاقات کے لیے رکنے کا بھی ارادہ ہے ، یوں کہ پہلے گجرانوالہ جائیں گے ، وہاں ملاقاتیں کریں گے، پھر آگے لاہور کے لیے نکلیں گے ، اسی لیے گھر سے کچھ جلدی نکلیں گے ، گجرات سے گجرانوالہ کا سفر تقریباً پچاس کلو میٹر ہے اور گجرانوالہ سے لاہور کا سفر تقریباساٹھ کلومیٹر ہے، اس طرح یہ ٹوٹل مسافت، شرعی مسافت یعنی 92 کلو میٹر سے زیادہ ہے، سوال یہ ہے کہ لاہور جاتے ہوئے گجر انوالہ رکنا سفر شرعی میں اتصال کو منقطع کرے گا یا نہیں اور نماز قصر پڑھی جائے گی یا مکمل ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں گجرات سے لاہور کا یہ سفر متصل نہیں، لہذا مذکورہ افراد پر پوری نماز پڑھنالازم ہے۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ شرعی سفر کے لیے کم از کم 92 کلو میٹر متصل سفر ہو ناضروری ہے اور متصل سفر سے مراد یہ ہے کہ کم از کم 92 کلو میٹر کا سفر یکمشت ہو ، دورانِ سفر بالقصد کسی کام کے لیے رکنے کا ارادہ نہ ہو ، ہاں! ضمنی طور پر رکنا، مثلاً نماز، کھانے پینے یا آرام و غیرہ کی غرض سے رکنا انقطاع کا سبب نہیں بنے گا، خواہ کتنے ہی وقت کے لیے ہو کہ ان چیزوں کی عموما سفر میں ضرورت پڑتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.