Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
معدہ کے السر کی وجہ سے روزہ چھوڑ سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 0525-HAB
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج سے کچھ دن پہلے میرے معدے میں تکلیف اٹھی اور کھانا وغیرہ بالکل ہضم نہیں ہو رہا تھا، اس کے بعد میں نے علاج کروایا تو یہ تکلیف ختم ہو گئی ، لیکن اب معدہ بھاری بھاری رہتا ہے ، ڈاکٹر نے معدے کا السر مجھے بتایا ہے، اس کا بھی علاج ابھی چل رہا ہے، تو کیا میں اس کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑ سکتا ہوں ؟ میرے گھر میں میری ایک بہن کو یہی تکلیف ہے، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اس بیماری میں کھاتے پیتے رہنا ضروری ہوتا ہے ورنہ خالی پیٹ رہنے سے تکلیف بہت بڑھ جاتی ہے۔
Answer (beginning)
معدے کا السر ہو یا کوئی اور بیماری، یہ مطلقا روزے چھوڑنے کیلئے شرعی عذر نہیں مانا جائے گا، بہت سے معدے کے السر والے مریض ایسے ہیں جو رمضان شریف کا روزہ رکھتے ہیں اور ان کی بیماری نہیں بڑھتی ، لہذا اگر ایسی معمولی قسم کی بیماری ہو تو روزہ چھوڑنے کیلئے عذر نہیں، اگر چھوڑیں گے تو گنہگار ہوں گے۔ ہاں اگر معدے کے السر کی نوعیت اس طرح کی ہو کہ روزہ رکھناضر ر کا باعث ہو یعنی اگر روزہ رکھا جائے تو مرض بڑھ جانے یا دیر سے صحیح ہونے کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں اور صحیح ہونے پر اس کی قضا لازم ہو گی اور یہاں غالب گمان سے مراد یہ ہے کہ یا تو مرض بڑھ جانے وغیرہ کی کوئی واضح نشانی و…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.