Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اس شرط کے ساتھ مکان بیچنا کیسا کہ تم سے واپس میں ہی خرید لوں گا؟
- Fatwa no.
- 0517-HAB
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مجھے اپنے قرض کی ادائیگی کیلئے پچاس لاکھ روپے کی حاجت تھی، تو میں نے اپنا مکان جو سیکٹر 11 ایف کراچی میں موجود تھا اور اس کی مالیت تقریباً 60 سے 65لاکھ کی تھی، اپنے کزن کو ضرورت کی وجہ سے 55لاکھ کا بیچ دیا اور اس میں یہ معاہدہ طے ہوا کہ میں آپ کو یہ 55لاکھ دوبارہ دوں گا تو اس وقت آپ مجھے یہ مکان واپس کر دینا، اس دوران آپ اس میں رہ سکتے ہو ، اب اس بات کو تقریبا تین ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ حال ہی میں کاروباری مسائل کے متعلق ایک آن لائن سیشن ہوا جس میں ، میں نے شرکت کی ، اس میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقہ شرعانا جائز ہے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا واقعی یہ ناجائز ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ برائے کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ نے جو اپنے کزن سے معاہدہ کیا، وہ واقعی نا جائز و گناہ تھا، کیونکہ بیع میں ذکر کئے گئے اس معاہدہ سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ کا مقصد اپنے کزن کو گھر بیچنا نہیں تھا بلکہ اپنے قرض کی ادائیگی کیلئے مطلوبہ رقم لینا اور اس کے بدلے کزن کو وقتی طور کیلئے گھر دیا تھا اور یہ شرعی نقطہ نظر سے بیع وفا ہے جو صحیح و معتمد قول کے مطابق رہن ہوتی ہے ، لہذا جب یہ رہن ہے ، تو آپ کے کزن کیلئے اس میں رہائش کر کے نفع حاصل کرنا جائز نہیں تھا کہ اس طرح رہن سے نفع حاصل کر نانا جائز و گناہ اور سود ہے اور یہ معاہدہ بھی اسی وجہ سے ناجائز و گناہ ٹھہر ا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.