Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کا رکوع و سجود کے لیے جھک جانے کے بعد تکبیر کہنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 0516-HAB
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ بعض امام صاحبان تکبیر انتقال رکوع یا سجدے کے لیے آدھا جھک جانے کے بعد اور کبھی تو رکوع اور سجدے میں پہنچنے کے بعد کہتے ہیں اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے مقتدی امام سے پہلے رکن کی طرف نہیں جاپاتے ، اگر ہم ساتھ ساتھ تکبیر کہیں تو کئی مرتبہ مقتدی ہم سے پہلے رکن میں چلے جاتے ہیں۔ کیا امام صاحبان کا ایسا کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو ایسی صور تحال میں اگر ہمارے سامنے امام کے انتقالات واضح ہوں مثلاً ہم پہلی صف میں نماز ادا کر رہے ہیں اور امام کو رکوع و سجود میں آتا جاتا دیکھ رہے ہیں تو امام کو دیکھ کر ہم بھی دوسرے رکن کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں یا امام کے تکبیر کہنے کے بعد ہی دوسرے رکن کی طرف انتقال ضروری ہے ؟ برائے مہربانی اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
امام کے لیے بھی تکبیر انتقال کی ادائیگی میں سنت یہی ہے کہ جیسے ہی رکن کی طرف انتقال شروع کرے، تکبیر کہنا بھی شروع کرے اور جیسے ہی انتقال ختم ہو ، تکبیر کا بھی اختتام کرلے، یعنی انتقال اور تکبیر انتقال کی ابتدا اور انتہا ساتھ ساتھ ہو ، اس کے خلاف امام کارکن کی طرف آدھے جھک جانے کے بعد یا دوسرے رکن میں مکمل انتقال کے بعد تکبیر کہنا سنت کی خلاف ورزی ہے، اگر چہ مقتدیوں کے ارکان میں امام سے آگے بڑھ جانے کے خوف کی وجہ سے ہو، کیونکہ اگر کوئی مقتدی امام سے آگے بڑھتا ہے تو اس کا وبال اس پر ہے ، امام پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.