Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضا روزے کی نیت کا وقت کب تک ہے؟
- Fatwa no.
- 0511-HAB
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک اسلامی بہن کے رمضان کے کچھ روزے قضا ہیں جنہیں وہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سوالات یہ ہیں: (1) قضاروزے کی نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟ (2) اگر کسی کے گزشتہ رمضان کے کچھ روزے باقی ہوں اور دوسرار مضان شروع ہو جائے، تو کیا وہ پہلے قضا روزے مکمل کرے یا موجودہ رمضان کے روزے رکھے ؟
Answer (beginning)
(1) قضاروزہ رکھنے کے لیے رات میں ہی یا پھر عین طلوع فجر کے وقت نیت کر ناضروری ہے ، اس کے بعد کی جانے والی نیت سے یہ روزہ ادا نہیں ہو گا۔ (2) اگر کسی کے رمضان کے قضا روزے باقی ہوں اور اگلار مضان آجائے تو اس صورت میں آنے والے رمضان کے روزے پہلے رکھنا ضروری ہیں، قضا روزوں کی نیت کرنا اس وقت ناجائز و حرام ہے، اگر کوئی شخص قضاروزوں کی نیت کرتا ہے تو بھی اس کا روزہ موجودہ رمضان کا ہی شمار ہو گا، اور اس نیت کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا۔ پچھلے رمضان کے قضاروزے اس رمضان کے بعد ہی ادا کیے جاسکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.