Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کئی سالوں کے ایڈوانس کرائے میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ کس پر ہوگی؟

Fatwa no.
2760-Aqs
Issued
13 رمضان المبارک 1446ھ / 14 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک دُکان پانچ سال کے لیے کرائے پر لی ہے، جس کے پانچ سالوں کا کرایہ (3 کروڑ روپے بنتا تھا، وہ ) میں نے مالک دکان کو شروع میں ہی دے کر دُکان اپنے استعمال میں لے لی تھی۔ اس رقم کے علاوہ بھی میں مالک نصاب ہوں، جس کا سال رمضان شریف میں ہی مکمل ہو رہا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ پانچ سال کا جو ایڈوانس کرایہ (3 کروڑروپے) میں نے مالک دُکان کو دیا ہے، اس کی زکوۃ مجھ پر ہوگی یا نہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ایڈوانس کرائے کی مد میں آپ نے جور تم مالک دُکان کو دی ہے ، اس کی زکوۃ آپ پر نہیں بنتی، کیونکہ کرائے دار جب چیز کا کرایہ مالک کو دیتا ہے ، تو وہ رقم کرائے دار کی ملک سے نکل جاتی ہے ، اگر چہ طویل عرصے کا کرایہ اکٹھا ایڈوانس میں ہی دے دیا جائے۔ جس شخص کو وہ کرایہ دیا ہے، اُس کی ملک ہو جاتا ہے اور وہ اس رقم میں ہر طرح کا مالکانہ تصرف کر سکتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.