Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کانوں کی لَو اور قلموں کے درمیان والے حصے کو وضو میں دھونا ضروری ہے؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9263-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا وضو میں چہرہ دھوتے ہوئے، کانوں کی کو کے بالکل ساتھ والی جگہ ، جو کہ قلموں کے بال اور کو کے درمیان ہوتی ہے اور وہاں بال بھی نہیں ہوتے، کیا چہرہ دھوتے ہوئے اُسے دھونا بھی ضروری ہے؟
Answer (beginning)
قلموں کے بال جو کہ کان کے محاذی اور برابر ہوتے ہیں۔ ان قلموں اور کان کی لو کی درمیانی جگہ صاف ہوتی ہے، یہاں بال نہیں اُگتے۔ شرعی اعتبار سے وضو میں چہرہ دھوتے ہوئے اِس حصہ کا دھونا بھی فرض ہے۔ یہ جگہ چہرہ کی حد سے خارج نہیں، بلکہ داخل ہے۔ وضو میں اس جگہ کو دھونے کے متعلق تنویر الابصار و در المختار “ میں ہے: ” يجب غسل ما بين العذار و الاذن لدخوله في الحد، به یفتی“ ترجمہ : عذار اور کان کی درمیانی جگہ کا دھونا ضروری ہے ، کیونکہ وہ حصہ بھی چہرے کی حد میں داخل ہے۔ اسی پر فتویٰ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.