Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدیوں میں صرف عورتیں ہوں تو مرد ان کو جماعت کروا سکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 674-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں مرد امام ہو اور مقتدی سب عور تیں ہوں اور مردیعنی امام ایک ہی گھر میں پہلے کمرے میں ہو اور اس کے پیچھے ساتھ کمرے میں عور تیں مقتدی ہوں، تو کیا اس طرح عورتیں، مرد امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہیں ؟
Answer (beginning)
مذکورہ صورت کی تفصیل میں جائے بغیر حکم شرعی یہ ہے کہ عورتوں کے لیے کسی بھی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں، خواہ یہ جماعت مسجد میں ہو یا کسی گھر یا ہال وغیرہ میں ، رمضان میں ہو یار مضان کے علاوہ میں ، فرض نماز ہو یا تراویح، صلاة التسبیح، یا عام نوافل، چاہے عورتیں جو ان ہوں یا بوڑھیاں، بہر صورت ان کا جماعت میں شرکت کرنا، ناجائز ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ ایک ہی گھر میں بہت سی عورتوں کا جمع ہو کر مر د امام کے پیچھے نماز پڑھنا، اگر تو وہ سب عورتیں اس مرد امام کی محارم ہوں، یا ان میں بعض عورتیں مرد کی محارم ہوں اور بعض اجنبیہ ہوں، تو چند شرائط و قیودات کے ساتھ اس کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن اگر سب…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.