Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سنت مؤکدہ کی چاروں رکعتوں میں سورتوں میں ترتیب ضروری ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
669-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر چار رکعت سنت مؤکدہ ظہر کی پڑھ رہے ہوں تو کیا چاروں رکعتوں میں تلاوت کی ترتیب کا خیال رکھنا ہو گا یا پہلی دو اور پھر دوسری دور کعتوں میں ترتیب رکھنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

سنت مؤکدہ نماز اپنی تاکید کی وجہ سے فرضوں کے مشابہ ہونے کے سبب کثیر احکام کے اعتبار سے ایک ہی نماز ہے۔ فرضوں سے مشابہت کی وجہ سے ہی سنت مؤکدہ کو ایک نماز مانتے ہوئے اس کے قعدہ اولیٰ میں درود شریف اور تیسری رکعت کے شروع میں ثنا پڑھنے کی ممانعت ہے ، لہذ ا سنت مؤکدہ کے فرضوں سے مشابہت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ قراءت کے اعتبار سے بھی اس کی چاروں رکعتیں فرض نماز کی طرح ایک نماز ہو اور اس کی تمام رکعتوں کی قراءت میں ترتیب لازم ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.