Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فجر کے وقت وضو کے لیے وقت تنگ ہو تو تیمم کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
667-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی نماز فجر کے لئے ایسے وقت آنکھ کھلے کہ وضو کرنے میں وقت نکل جائے گا، تو کیا ایسی صورت میں وضو کی جگہ تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

جو شخص نماز فجر کیلئے ایسے وقت نیند سے بیدار ہو کہ وضو کرنے یا غسل فرض ہونے کی صورت میں غسل کر کے نماز پڑھنے سے وقت اتنا تنگ ہو جائے گا کہ نماز فجر کا سلام پھیرنے سے پہلے پہلے طلوع آفتاب ہو جائے گا، تو ایسی صورت میں وضو و غسل کی جگہ تیم کر کے نماز پڑھ لے، البتہ بعد میں اس نماز کو وضو یا غسل کر کے دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا۔ در مختار میں ہے: ” یتیمم لفوات الوقت- قال الحلبي: فالأحوط أن يتيمم ويصلى ثم يعيد “ ترجمہ : وقت کے فوت ہونے کی وجہ سے تیمم کرے گا۔ حلبی نے فرمایا کہ احوط یہ ہے کہ وہ تیم کر کے نماز پڑھے پھر اس نماز کا اعادہ کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.