Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دانتوں میں پھنسی چیز نگلنے سے روزے کا حکم
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 666-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر روزے کی حالت میں منہ کے اندر کوئی چیز پھنس گئی ہو اور کوئی شخص اس کو غلطی سے نگل لے ، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
Answer (beginning)
اگر روزے دار کے منہ میں پھنسی چیز قلیل مقدار میں ہو یعنی چنے کی مقدار سے کم ہو تو اس کے حلق میں اترنے یا اتارنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، اگر چہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔ ہاں البتہ اگر وہ چیز کثیر مقدار میں ہو یعنی چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو روزہ یاد ہونے کی صورت میں اس کے حلق میں اترنے یا اُتار لینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضا لازم ہو گی۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ”و لو بقي بين أسنانه شيء فابتلعه ذكر في الجامع الصغير أنه لا يفسد صومه، وإن أدخله حلقه متعمدا، روي عن أبي يوسف أنه إن تعمد عليه القضاء ولا كفارة عليه ووفق ابن أبي مالك فقال : إن كان مقدار الحمصة، أو أكثر يفسد صومه وعليه…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.