Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کی صرف ہڈیاں بچی ہوں تو نماز جنازہ کا حکم
- Fatwa no.
- 660-FAM
- Issued
- 12 شعبان المعظم 1446ھ / 11 فروری 2025 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر سمندر میں ڈوبنے کے بعد کسی شخص کی صرف ہڈیاں ملی ہوں یا جلنے کے بعد صرف ہڈیاں رہ گئی ہوں، تو کیا اُن پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟
Answer (beginning)
اگر سمندر میں ڈوبنے کے بعد کسی شخص کی صرف ہڈیاں ملی ہوں یا جلنے کے بعد صرف ہڈیاں رہ گئی ہوں، تو ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ اس طرح کی صورتحال میں کہ جب میت کی صرف ہڈیاں ملیں تو حکم یہ ہے کہ اُن ہڈیوں کو بغیر غسل اور کفن کے محض کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے۔ چنانچہ علامہ کا سانی علیہ الرحمہ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں: ” أن العظام لا يصلى عليها بالإجماع “ ترجمہ: بیشک ہڈیوں پر بالا جماع نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.