Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اللہ سے وعدہ کر کے توڑ دیا تو کفارہ ہوگا؟
- Fatwa no.
- 643-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی بات پر اللہ تعالی سے وعدہ کیا جائے ، اور پھر وعدہ خلافی ہو جائے تو کیا حکم ہے ، کیا کوئی کفارہ ہو گا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
اگر وعدہ صرف وعدہ ہی تھا، شرعی قسم یا منت نہیں تھی ، تو اس صورت میں وعدے کے خلاف کرنے کے سبب کفارہ تولازم نہیں ہو گا، البتہ جس کام کا اللہ عزوجل سے وعدہ کیا جائے اور پھر وہ کام بغیر کسی مجبوری کے نہ کیا جائے، تو یہ بہت برا عمل ہے، بلکہ اگر وہ وعدہ کسی گناہ سے بچنے یا کسی فرض و واجب کام کی ادائیگی کے متعلق ہو ، تو اس صورت میں وعدہ خلافی کرنے والا سخت گنہگار بھی ہو گا کہ گناہ کرنا، یا فرض و واجب کام کو نہ کرنا خود ہی ایک گناہ ہے، اور دوسرا یہ اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی بھی ہے ، اور اللہ عزوجل سے وعدہ کر کے پھر جانا بہت سخت ہے اور اس پر شدید وعید آئی ہے اور یہ منافقین کا طرز عمل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.