Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والدین کا خرچہ اولاد پر کب اور کتنا لازم ہوتا ہے؟
- Fatwa no.
- 9101-Sar
- Issued
- 18 ربیع الاول 1446ھ / 23 ستمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والدہ کا انتقال ہو جائے اور والد صاحب بوڑھے ہوں اور بیٹے کمائی کرتے ہوں، تو والد صاحب کا نان نفقہ اولاد پر کب لازم ہوتا اور کب نہیں ؟
Answer (beginning)
والدین کے صرف بوڑھے ہونے سے ان کا خرچہ اولاد پر لازم نہیں ہو جا تا بلکہ ان کے محتاج وضرورت مند ہونے سے ان کا خرچہ اولاد پر لازم ہو تا ہے، لہذاجب ماں باپ دونوں یا کوئی ایک محتاج ہو کہ نہ روپیہ پیسہ ہے یاغلہ وسامان تو ان کا نفقہ اولاد پر واجب ہے، جب کہ اولاد صاحب نصاب ہو اور نصاب سے مراد قرض و حاجت اصلیہ سے زائد نصاب کی مقدار کسی بھی شے کا زیادہ ہونا، روپیہ پیسہ ہو یا سامان۔ بہر حال ایسی صاحب نصاب اولاد پر تنگی کا شکار والدین کا ضروری خرچہ واجب ہے اور اگر اولاد میں اتنی مالی وسعت نہ ہو کہ والدین کے اخراجات دے سکے تو کم از کم اپنے والدین کو کھانے پینے میں اپنے ساتھ ضرور شریک کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.