Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقیم مقتدی نے مسافر امام کی اقتدا کی تو باقی رکعتوں میں قراءت کا حکم؟

Fatwa no.
0328-MUI

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک مقیم شخص جو چار رکعت والی نماز میں ایک مسافر کی اقتدا کرتا ہے ، مسافر امام کے دور کعت پر سلام پھیرنے کے بعد جب وہ شخص اپنی دور کعت مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہو گا، تو اس وقت وہ قراءت کرے گا یا نہیں؟ نیز اگر اس نے جان بوجھ کر قراءت کر لی، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مقیم مقتدی کا اپنی بقیہ دور کعتوں میں قراءت کرنا جائز نہیں بلکہ خاموش رہنا واجب ہے،؛ کیونکہ چار رکعت والی فرض نماز میں مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا مقیم مقتدی آخری دور کعتوں میں لاحق ہوتا ہے۔ اور لاحق، حقیقی مقتدی کی طرح حکم رکھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کے سہو سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو تا، لیکن اگر کوئی مقتدی امام کے پیچھے قصد اواجب چھوڑے تو اس کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی نے جان بوجھ کر خاموش رہنا (جو کہ واجب ہے ) ترک کیا اور قراءت کی تو اس کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.