Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبر کتنی گہری ہونی چاہیے؟ تفصیلی فتویٰ
- Fatwa no.
- 2740-Aqs
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قبر کی گہرائی کے حوالے سے اسلام ہماری کیار ہنمائی کرتا ہے کہ قبر کتنی گہری ہونی چاہیے ؟ ہماری جماعت میں کچھ لوگ قبر کو صرف اتنی گہری بناتے ہیں کہ میت کو لٹایا جائے، تو میت چھپ جاتی ہے، یعنی ڈیڑھ دو فٹ تک گہری بناتے ہیں اور پھر اوپر سلیپ وغیرہ سے بند کر کے اوپر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ اس لیے دلائل کے ساتھ رہنمائی فرما دیں، تاکہ میں اپنی جماعت والوں کو دکھا سکوں اور پھر اسی کے مطابق ہی قبریں تیار کیا کریں۔
Answer (beginning)
اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ میت کو مٹی کی اتنی گہرائی میں دفن کیا جائے کہ درندے وغیرہ اس کے جسم کو عمومی طور پر کھانہ سکیں اور ہواؤں وغیرہ سے قبر کا اوپر والا حصہ جلد کھل نہ سکے اور میت کے ساتھ خدا کا غیبی معاملہ یامیت کا بوسیدہ جسم یا ہڈیاں لوگوں پر ظاہر نہ ہوں۔ ان حکمتوں کے پیش نظر اسلام نے میت کو قبر میں دفن کرنے اور پھر دفن کے لیے قبر کو گہر ا ر کھنے کا بھی حکم دیا، جس کے لیے ایک دوفٹ قبر کو گہر ا کر نا کافی نہیں، کیونکہ ایک دوفٹ گہرا کرنے سے میت کے ظاہر ہونے ، جانوروں کے نکال لینے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ، بالخصوص بارشوں وغیرہ پانی کی وجہ سے قبریں ظاہر ہو جاتی ہیں، اس لیے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.