Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سونا چاندی اور روپے ہر ایک الگ الگ نصاب سے کم ہو تو زکوٰۃ کا حکم؟

Fatwa no.
0505-HAB

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج سے ایک سال قبل میری شادی میں میرے بڑے بھائی نے مجھے دو تولہ سونا اور پچاس ہزار روپے بطور تحفہ دیئے تھے، پچاس ہزار روپے تو چھ سات ماہ میں ہی ختم ہو گئے اور اس دوران میری پھوپھی نے مجھے چاندی کی (Ring) گفٹ دی، اب سال مکمل ہو گیا ہے ، لیکن میرے پاس صرف وہی دو تولہ سونا اور چاندی کی (Ring) ہے۔ سونا تو استعمال میں بالکل نہیں ہے ، ہاں ! چاندی کی (Ring) استعمال میں ہے ، ان کے علاوہ کوئی رقم وغیرہ موجود نہیں۔ البتہ شوہر خرچے کیلئے جو رقم دیتے ہیں وہ ضروریات میں استعمال ہو جاتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا مجھے پر ان دو تولہ سونے کی زکاۃ لازم ہوگی ؟ کیونکہ چاندی کی (Ring) تو میرے استعمال میں ہے، نیز یہ بھی بتادیں کہ اب دوبارہ سال کا آغاز کب سے مانا جائے گا؟

Answer (beginning)

جس دن آپ دو تولہ سونے اور پچاس ہزار روپے کی مالک بنیں، اسی دن سے آپ کی زکوۃ کا سال شروع ہو گیا، کیونکہ یہ دونوں نصاب زکوۃ یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہیں، لہذا در میان سال میں جو پچاس ہزار روپے خرچ ہو گئے ، اس سے نصاب پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ سال مکمل ہونے پر آپ چونکہ دو تولہ سونا اور چاندی کی (Ring) کی مالک ہیں ، جو مل کر بلاشبہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہیں، لہذا آپ پر ان سب کی زکوۃ ادا کرنالازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.