Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کے گھر جھانکنے کا حکم اور ایک حدیث پاک کی شرح

Fatwa no.
0500-HAB
Issued
26 رجب المرجب 1446ھ / 27 جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک پوسٹ وائرل کی گئی، جس کی ہیڈنگ میں لکھا تھا کسی کے گھر میں جھانکنے کی مذمت پھر اس میں صحیح بخاری شریف کے حوالے سے یہ فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لکھا تھا ”اگر کوئی شخص تیرے گھر میں (کسی سوراخ وغیرہ سے) تم سے اجازت لئے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے “ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ حدیث یا اس طرح کی کوئی حدیث بخاری میں موجود ہے ؟ اور اگر ہے تو اس کا ظاہری معنی جو سمجھ آرہا ہے، یعنی کسی کو کنکر یا کوئی چیز آنکھ پر مارنا تو کیا یہی مراد ہے؟ برائے کرم اس حوالے سے آگاہ فرمائیں۔

Answer (beginning)

اسلام ایک کامل دین فطرت ہے، یہ جس طرح عبادات اور اس کے طریقوں کی رہنمائی کرتا ہے ، ٹھیک اسی طرح زندگی کے دیگر معاملات، اخلاقیات اور آداب معاشرت بھی سکھاتا ہے، انہیں میں سے ایک اہم تعلیم ”کسی کے گھر میں دیکھنے سے پہلے اس کو مطلع کرنا اور اس کی اجازت حاصل کر لینا بھی ہے ، اس کی وجہ ہر عقلمند پر واضح ہے کہ انسان اپنے گھر میں کبھی بے تکلفی کی حالت میں ہوتا ہے اور اتنا خاص پر دے کا کوئی اہتمام نہیں کرتا، جتنا وہ جلوت میں کرتا ہے، لہذا اگر کوئی اچانک گھر میں دیکھے گا یا داخل ہو گا توگھر والوں کے ستر پر نظر پڑنے اور بے پردگی ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اسی لئے کسی کے گھر میں بلا وجہ شرعی اس کی اجازت کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.