Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس شخص کا ایک ہاتھ نہ ہو تو کیا وہ احرام میں لاسٹک استعمال کر سکتا ہے؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 0487-HAB
- Issued
- 27 جمادى الآخرى 1446ھ 1ھ / 30دسمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایسا معذور شخص جس کا دایاں ہاتھ نہ ہو اور وہ حج یا عمرے کے لئے جائے، تو اسے احرام میں لاسٹک لگوانے کی اجازت ہے؟ کیونکہ اس کے بغیر اُسے سخت آزمائش ہو گی، ایک تو ابتداء احرام باندھنے میں مشکل ہو گی، پھر حالت احرام میں قضائے حاجت کے لئے جائے گا تو دوبارہ سے احرام باندھنے میں الگ مسئلہ ہو گا، نیز حج و عمرہ کے مشاغل اور وضو کے دوران احرام کے کھل جانے کا بھی اندیشہ رہے گا، لہذا اس کے متعلق شرعی رہنمائی فرمادیں۔ واضح رہے کہ شخص مذکور غیر شادی شدہ ہے ، اس کی بیوی نہیں جو احرام کے معاملات میں اس کی مدد کر سکے۔
Answer (beginning)
حالتِ احرام میں نُبِسِ مَخِيطُ بَرَوَجهِ مُعتاد یعنی معتاد طریقے کے مطابق سلا ہو الباس پہنا ممنوع ہے، اور احرام کی چادر میں لاسٹک لگوانا کہ جس کے سبب چادر جسم پر از خود ٹھہر جائے اور اس کی نگہداشت کی ضرورت نہ رہے، یہ بھی ”لبس مخيط “ میں داخل ہے، لہذا عام حالات میں چادر میں لاسٹک لگوانے کی اجازت نہیں، ہاں عُذر کی صورت مستثنی ہے۔ اور سوال میں بیان کردہ صورت میں مختلف طرح کے لوگوں کے حوالے سے مختلف حکم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.