Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

التحیات کے علاوہ اذان و اقامت وغیرہ میں کلمہ شہادت پر انگلی اٹھانا کیسا؟

Fatwa no.
0433-HAB
Issued
06 ربیع الثانی 1446ھ / 10 اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کلمہ شہادت کے وقت مختلف مواقع پر جو شہادت کی انگلی اٹھائی جاتی ہے، جیسے التحیات میں، اسی طرح عوام میں یہ رائج ہے کہ وہ وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اور اذان واقامت میں کلمہ شہادت کے وقت شہادت کی انگلی اٹھاتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

جب التحیات میں کلمہ شہادت پڑھا جائے، اس وقت شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا تو متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، اس لئے فقہائے کرام علیہم الرحمۃ نے اس کو سنت قرار دیا اور نماز کے علاوہ بھی کلمہ شہادت پر شہادت کی انگلی اٹھانا درست ہے، کیونکہ اولاً تو اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور یہی اس کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے۔ ثانیا یہ کہ التحیات میں کلمہ شہادت پر انگلی اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ زبان کے ساتھ ساتھ اعضاء کے ذریعے اللہ پاک کی توحید کی تصدیق اور باطل معبودوں کا انکار ہو اور نماز کے علاوہ دیگر مواقع پر اسی مقصد کیلئے شہادت کی انگلی اٹھائی جاتی ہے، لہذا یہ بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.