Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت باقی ہو تو اس وقت سنتیں پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
419-HAB
Issued
09 ربیع الاول 1446ھ / 14 ستمبر 2024ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عمونا مساجد میں یہ دیکھا ہے کہ کچھ لوگ جب نماز کے لیے آتے ہیں اور اب جماعت کھڑی ہونے کچھ ہی منٹ باقی رہتے ہیں تو وہ سنتیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں جس کے سبب ان کی ایک دور کعت چھوٹ بھی جاتی ہیں، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ بالخصوص ظہر میں جب جماعت کھڑی ہونے میں اتنا وقت باقی نہ ہو کہ مکمل چار سنتیں پڑھی جاسکیں تو کیا سنتیں پڑھنا شروع کرنی چاہیے یا جماعت کے بعد اسے ادا کریں، اسی طرح عصر اور عشاء کی سنت قبلہ اگر چھوٹ جاتی ہیں تو اس کو ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

فجر کی سنتوں کے علاوہ دیگر تمام سنن قبلیہ میں اصل یہ ہے کہ اگر نماز پڑھنے والا جانتا ہے کہ امام کے پہلی رکعت کے رکوع ادا کرنے سے پہلے وہ جماعت میں شامل ہو جائے گا تو یہ سنتیں ادا کرے پھر جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر اسے ظن غالب ہے کہ سنت پڑھنے کے سبب پہلی رکعت کار کوع بھی نہیں مل سکے گا تو اب سنتیں پڑھنے کی بجائے جماعت میں شامل ہو جائے۔ ہاں فجر کی سنت کا حکم یہ ہے کہ اگر اسے معلوم ہے کہ امام کے ساتھ قعدہ میں بھی شامل ہو جائے گا تو سنت فجر پڑھے، پھر جماعت میں شامل ہو اور اگر اندیشہ ہو کہ جماعت مکمل نکل جائے گی تو سنت فجر چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.