Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتروں میں دعائے قنوت مکمل نہیں پڑھی تو وتر ہوجائیں گے؟

Fatwa no.
9251-FSD
Issued
27 رجب المرجب 1446ھ / 28 جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی وتر میں دعائے قنوت پڑھتے ہوئے بھول جائے، یعنی و تشکرک یک پڑھے اور اگلے کلمات بھول جائے اور اسی طرح رکوع کرلے، تو کیا اُس کے وتر ادا ہو گئے یا دوبارہ پڑھنے ہوں گے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں وتر ادا ہو گئے ، دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔ بیان کردہ حکم شرعی کی تفصیل یہ ہے کہ وتر کی تیسری رکعت میں قراءت کے بعد دعا پڑھنا واجب ہے ، اور یہ واجب کسی بھی دعا سے پورا ہو جاتا ہے، البتہ مشہور دعا پڑھنا یا احادیث میں موجود دیگر دعاؤں میں سے کوئی دعا پڑھنا اور اسے مکمل پڑھنا مستحب ہے، یعنی اگر کوئی بطورِ دعا اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ “ پڑھتا ہے اور مزید بغیر رکوع میں چلا جاتا ہے ، تو اُس کا واجب ادا ہو گیا، البتہ مکمل دعانہ پڑھنے کے سبب مستحب “ کو چھوڑ نا پایا گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.