Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں نزلہ بہہ رہا ہو تو اسے صاف کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
9240-FSD
Issued
15 رجب المرجب 1446ھ / 16 جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں چھینک آنے پر نزلہ بہہ کر ناک ومنہ کی بیرونی جگہ پر لگ جائے، تو اس صورت میں کیا کیا جائے، کیونکہ اگر اس کو ایسے ہی رہنے دیا جائے ، تو سجدہ کرنے کی صورت میں مسجد کے فرش پر گرنے کا خدشہ بھی رہتا ہے اور نماز کا خشوع خضوع بھی نہیں رہ پاتا، تو کیا جیب سے رومال نکال کر اسے صاف کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں عمل قلیل کے ذریعے ایک رکن مثلاً قیام، رکوع یا سجود میں دو مر تبہ رومال نکال کر نزلہ صاف کرنے کی بلا کراہت اجازت ہے کہ نزلہ کو صاف کرنا، خشوع بر قرار رکھنے میں مفید عمل ہے اور اس سے مسجد کی نظافت بھی متاثر نہیں ہو گی اور عمل قلیل کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، ہاں اگر نزلہ صاف کرنے میں عمل کثیر کرنا پڑے تو عمل کثیر کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.