Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چلتے کاروبار کا حکم اور جائز طریقہ؟

Fatwa no.
9131-FSD
Issued
06 ربیع الثانی 1446ھ / 10 اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی دوکان ہے، جس میں تقریباً ڈیڑھ ، دولاکھ روپے کامال موجود ہے، بکر نے زید کو دولاکھ روپے دیئے کہ میرے یہ پیسے اپنے کاروبار میں لگالو، ہم مشتر کہ کام کرتے ہیں اور طے یہ کیا کہ ہر ماہ نفع کا نہیں، بلکہ جو بھی ٹوٹل سیل ہو گی، اس کا 2 فیصد مجھے دیتے رہنا، باقی تمام معاملات تمہارے ذمہ ہوں گے ، تو زید نے اس سے پیسے لے کر کام میں شامل کر لیے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ زید و بکر کا باہم یہ معاہدہ کرنا کیسا ہے؟ نوٹ : بکر نے زید کی دوکان میں سے کوئی مخصوص حصہ (Share) نہیں خریدا اور نہ ہی کسی خاص پروڈکٹ میں شرکت کی ہے، بلکہ چلتے کاروبار میں پیسوں کے ذریعے شرکت کی ہے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق زید و بکر کا عقد شرکت (Partnership) کرنا، دو وجوہات کی بنا پر ناجائز و گناہ ہے، دونوں پر اس معاہدے کو ختم کرنا اور اس عمل سے تو بہ کرنا بھی لازم ہے۔ (1) پہلی وجہ یہ کہ دونوں جانب سے نقدی مال (مثلا روپے پیسے رقم) نہیں ہے، بلکہ ایک جانب سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہے، حالانکہ قوانین شرعیہ کے مطابق شرکت مال کے لئے ضروری ہو تا ہے کہ دونوں جانب سے نقدی مال ہو، کسی بھی جانب سے سامان نہ ہو ، اگر کسی ایک جانب سے بھی سامان ہو گا، تو اس طرح شرکت کرنا جائز نہیں ہو گا اور اس شرکت کو ختم کرنالازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.