Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کاروبار کے لیے پیسے دیے، تو نفع و نقصان کس طرح رکھنا ہوگا؟
- Fatwa no.
- 9130-FSD
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1446ھ / 108اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا جنرل اسٹور ہے ، اس کے دوست خالد نے اس کو ایک لاکھ روپے دیئے کہ ان پیسوں سے بوتلیں (Cold Drinks) لے آؤ اور ان کا کام کرو، اس کا مکمل حساب تمہاری دکان سے الگ رہے گا اور طے یہ پایا کہ جو بھی نفع ہو گا، دونوں میں آدھا آدھا تقسیم ہو گا، البتہ اگر نقصان ہوا، وہ سارازید یعنی دوکاندار کے ذمہ ہو گا، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس انداز سے مل کر کام کرنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
ایک شخص کی رقم ہو اور دوسرے کا صرف کام ہو ، تو شرعی اصطلاح میں اسے "عقد مضاربت "( Sleeping Partnership) کہتے ہیں اور عقدِ مضاربت کا اصول یہ ہے کہ نفع فریقین باہمی رضامندی سے جتنا چاہیں فیصد کے اعتبار سے مقرر کر سکتے ہیں، چاہے آدھا آدھا ہو یا کم زیادہ ہو، البتہ نقصان ہونے کی صورت میں مضارب ( کام کرنے والا / Working Partner ) فقط اپنی کو تاہی سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہو تا ہے، جو نقصان مضارب کی تعدی و کوتاہی کے بغیر ہوا، وہ رَبُّ المال (Investor) ہی برداشت کرے گا، مطلقاً مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط لگانا، شرط فاسد اور ناجائز و گناہ ہے ، لیکن اس کی وجہ سے مُضاربت فاسد نہیں ہوتی، بلکہ خود یہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.