Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر شرعی سفر سے پہلے واپسی کا ارادہ کر لے تو نماز کا حکم؟

Fatwa no.
9121-FSD
Issued
05 ربیع الثانی 1446ھ / 09 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر زید شرعی مسافت طے کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے روانہ ہو اور 50 کلو میٹر سفر طے کر چکا ہو، پھر کسی سبب سے سفر وہیں پر ختم کر دے اور گھر کی طرف واپس آئے ، تو کیا واپسی پر دوران سفر گھر آنے سے پہلے وہ قصر نماز پڑھے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟ نوٹ : زید کو کام کے سلسلے میں اکثر اوقات باہر جانا پڑتا ہے ، تو کبھی کبھار اس کے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے دوران سفر گھر واپس آنا پڑتا ہے ، لہذا اس مسئلے کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید گھر واپس آنے سے پہلے بھی دوران سفر پوری نماز پڑھے گا، قصر نہیں کرے گا۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قصر نماز پڑھنا، اس وقت لازم ہوتا ہے ، جب کوئی شخص شرعی مسافر کہلائے اور شرعی مسافر بننے کے لیے شرط ہے کہ سفر مکمل ہونے سے پہلے درمیان میں سفر ختم کرنے کا ارادہ نہ ہو، بلکہ سفر مزید آگے جاری رکھنا ہو ، لیکن اگر مسافر نے شرعی مسافت مکمل ہونے سے پہلے سفر ترک کر کے وطن اصلی کی طرف واپسی کا ارادہ کر لیا، تو محض ارادہ کرنے سے وہ مقیم ہو جائے گا اور گھر واپس آنے تک دوران سفر پوری نماز پڑھے گا، لہذازید جب دوران سفر شرعی مسافت مکمل ہونے سے پہلے ہی سفر کو ترک کر کے وطن واپسی کا ارادہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.