Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین کی وجہ سے زکوٰۃ اور صدقہ فطر لازم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 633-FAM
- Issued
- 08 رجب المرجب 1446ھ / 09 جنوری 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زکوۃ اور صدقہ فطر دونوں کے وجوب کے لیے مالک نصاب ہو نا ضروری ہے تو زمیندار پر زمین کی وجہ سے اُن دونوں کا وجوب ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
زکوۃ اور صدقہ فطر میں سے ہر ایک کے واجب ہونے کیلئے اگر چہ نصاب کا مالک ہو ناضروری ہے ، مگر دونوں میں اس اعتبار سے فرق ہے کہ زکوۃ کے واجب ہونے کیلئے تو نصاب کا مال نامی ( یعنی سونا، چاندی، کرنسی ، مالِ تجارت وغیرہ) ہوناشر ط ہے، جبکہ صدقہ فطر میں نصاب کا مال نامی ہونا شرط نہیں۔ لہذ از میندار پر زمین کی وجہ سے زکوۃ و صدقہ فطر کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں کچھ تفصیل ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے: (۱) اگر زمیندار نے وہ زمین بیچنے کی نیت سے خریدی ہو اور قرض و حاجت اصلیہ کو مائنس کرنے کے بعد اُس زمین کی خود یا دوسرے مال نامی ( جیسے سونا، چاندی، روپے ، پرائز بانڈ ، یا دوسرے مال تجارت) سے مل کر نصاب (ساڑھے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.