Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کے دوران افطاری کرتے ہوئے کھانا پینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 632-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان یا نفل روزے میں روزہ کھولتے وقت اذان ہوتی ہے، تو لوگ افطار کرتے رہتے ہیں، اذان کا جواب دینے کے لیے رُکتے نہیں ہیں، تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ اذان ہوتے وقت افطار کرتے رہنے والے لوگ گنہگار ہوں گے یا نہیں؟
Answer (beginning)
مفتی بہ وراجح قول کے مطابق زبان سے اذان کا جواب دینا مستحب ہے ، واجب نہیں ہے، پھر فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کھانا کھانے والے شخص کو تو ویسے بھی کھانے کے دوران اذان کا جواب نہ دینے کی رُخصت حاصل ہے یعنی اس پر اذان کا جواب نہیں ہے، لہذا اگر روزے دار شخص افطار کر رہاہو اور اس دوران اذان ہو جائے، تو وہ افطار کو جاری رکھ سکتا ہے، ایسا کرنے والا گنہ گار نہیں ہو گا ، ہاں البتہ حصولِ ثواب کے لئے بہتر یہ ہے کہ اگر اذان سے پہلے کھانا پینا شروع کر دیا ہو تو اذان ہونے پر مزید کھانا پینا موقوف کر کے اذان کا جواب دیا جائے ، اور اگر اذان شروع ہونے پر ہی افطار کیا ہو تو کچھ کھاپی کر جیسے ایک آدھ کھجور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.