Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت میں نکاح کرنا کیسا اور اس نکاح کا حکم؟

Issued
07 ربیع الاول 1446ھ /12 ستمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حاملہ مطلقہ عورت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے سے پہلے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں ؟ اگر حاملہ طلاق والی عورت نے ، حمل ہونے کی حالت ہی میں دوسری جگہ نکاح کر لیا، تو اب اس نکاح سے متعلق کیا حکم ہو گا ؟ کیا ایسا نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

حاملہ عورت کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پید اہونے تک ہے، اس سے پہلے وہ نکاح نہیں کر سکتی، دورانِ عدت نکاح سخت ناجائز و حرام ہے ، نکاح تو دور کی بات، عدت کی حالت میں عورت کو نکاح کا پیغام دینا بھی حرام و گناہ ہے۔ اگر کسی حاملہ عورت نے وضع حمل سے پہلے یعنی دوران عدت ہی نکاح کر لیا، تو یا تو یہ نکاح اصلاً باطل ٹھہرے گا، یا پھر نکاح فاسد ہو گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر حاملہ عورت نے حمل کی حالت میں یعنی دورانِ عدت ہی نکاح کر لیا ہو ، تو اگر نکاح کے وقت مرد کو معلوم ہو کہ عورت عدت میں ہے، تو اس صورت میں یہ نکاح سرے سے ہو گا ہی نہیں، محض باطل ٹھہرے گا، اگر مردو عورت کے درمیان میاں بیوی والے معاملات…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.