Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت کے نوافل بیٹھ کر ادا کرنا اور کھانے کے بجائے رقم دینا؟

Fatwa no.
7507-PIN
Issued
21 ربیع الاول 1446ھ / 26 ستمبر 2024ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ منت کے متعلق میرے دو سوال ہیں: (1) اگر 10 فقراء کو کھانا کھلانے کی منت مانی تو کیا انہیں کھانا کھلانا ہی ضروری ہو گا یا اس کے بدلے رقم بھی دے سکتے ہیں ؟ (2) نوافل ادا کرنے کی منت مانی، تو ان نوافل کو بیٹھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں یا پھر کھڑے ہو کر ہی ادا کرنے ہوں گے ؟

Answer (beginning)

(1) فقراء کو کھانا کھلانے کی منت مانی، تو یہ منت شرعی ہے، جسے پورا کرنا واجب ہے، البتہ انہیں کھانا دینا ہی ضروری نہیں، بلکہ 10 افراد کو کھانے کی بجائے فی کس ایک صدقہ فطر یا اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے، کیونکہ فقیر کو کوئی چیز دینے کی منت ماننے سے مقصود حصولِ ثواب اور اس کی حاجت پوری کرنا ہو تا ہے ، تو متعین چیز کی بجائے اس کی قیمت دینے سے بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ایک فرد کے کھانے کا متبادل شریعت مطہرہ نے ایک صدقہ فطر مقرر فرمایا ہے ،لہذا فقراء کو صدقہ فطر یا اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.