Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآنی آیت والے فریم کو بغیر وضو چھونے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 0497-HAB
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گھر کی دیواروں پر آیت قرآنیہ پر مشتمل کچھ پلیٹیں اور فریم آویزاں ہیں، جن پر صرف آیات قرآنیہ کندہ ہیں اور ان کے ساتھ مزید کچھ نہیں لکھا ہوا، اب ہمیں صفائی ستھرائی کے لیے انہیں اتارنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور بسا اوقات ہمارا وضو بھی نہیں ہو تا، ایسی صورت میں انہیں بلاحائل چھونا، جائز ہے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ مذکورہ فریم بلکل گور ٹائپ ہے اور اس کے سامنے کی جانب شیشہ لگا ہوا ہے، نیز ان کے درمیان میں خالی جگہ بھی ہے ، جہاں سے اس کے اندر صفحہ یا گتا ڈالا جاتا ہے، یہیں سے فریم کے اندر آیت سے کندہ گٹاڈالا گیا ہے، اور اسے فریم کے کسی حصے کے ساتھ چپکایا نہیں گیا، اگر چاہیں تو اسے بآسانی نکال بھی سکتے ہیں۔ باقی پلیٹوں کا معاملہ اس سے بلکل جدا ہے ، ان کے ساتھ کوئی گور یا شیشہ نہیں لگا ہوا ، لہذا اس تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں چیزوں کے حوالے سے شرعی رہنمائی فرما دیں، نیز یہ بھی بتادیں کہ اگر انہیں چھونا منع ہے، تو صرف آیت لکھے ہوئے حصے کو نہیں چھو سکتے یا ہر حصے کو چھونا منع ہے؟
Answer (beginning)
کسی چیز مثلاً: سختی و غیرہ پر صرف آیت قرآنیہ یا اس کے کسی حصے کا لکھا ہونا اسے مصحف کے حکم میں کر دیتا ہے، جس کے سبب بے وضو یا ناپاکی کی حالت میں اُسے بلا حائل چھونا جائز نہیں ہوتا، اور یہ ممانعت صرف آیت لکھے ہوئے حصے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ہر حصے کو شامل ہوتی ہے ، یوں اس کے کسی بھی حصے کو چھونا، جائز نہیں رہتا، لہذا بیان کر دہ صورت میں : (۱) اول الذکر پلیٹوں کے کسی بھی حصے کو بے وضو یانا پاکی کی حالت میں بلاحائل چھونا، جائز نہیں کہ صرف قرآنیہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے وہ مصحف کے حکم میں ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.