Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا الٹا کپڑا پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
649-FAM
Issued
24 رجب المرجب 1446ھ / 27 جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الٹا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

ایسا کپڑا پہنا یا کپڑے کو اس انداز میں پہنا جسے پہن کر کوئی مہذب آدمی ، بازار میں یا کسی معزز شخص کے سامنے جانے میں شرم محسوس کرے، تو اُس کپڑے یا اُس انداز میں کپڑے پہن کر نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے، مکروہ تحریمی نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ الٹا کپڑا پہن کر کوئی بھی انسان بازار میں یا کسی بڑے معزز شخص کے سامنے جانا ہر گز پسند نہیں کرتا اور اس میں اپنی شرم محسوس کرتا ہے ، لہذا ایسے لباس میں نماز مکروہ تنزیہی ہے۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے : (و) کرہ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.