Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تہجد کی نماز سنت ہے یا نفل؟
- Issued
- 07 ربیع الثانی 1446ھ / 11 اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تہجد کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ کیا تہجد کی نماز سنت مؤکدہ ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
تہجد کی نماز سنت مؤکدہ ہر گز نہیں ہے، بلکہ یہ سنت مستحبہ یعنی ایک نفل نماز ہے جو کہ تمام مستحب نوافل سے زیادہ فضیلت و اہمیت والی ہے۔ غنیۃ المتملی میں ہے: "من النوافل المستحبة قيام الليل “ ترجمہ: نوافل مستحبه ”من میں سے رات کی نماز ( یعنی تہجد بھی) ہے۔ (غنیۃ المتملی، فصل فی النوافل، قیام اللیل، صفحہ 432، مطبوعہ کوئٹہ) سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”تہجد سنت مستحبہ ہے، تمام مستحب نمازوں سے اعظم واہم ، قرآن و احادیث حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کی ترغیب سے مالا مال، عامہ کتب مذہب میں اسے مندوبات و مستحبات سے گنا اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.