Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس چار پائی کی آڑ میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس چارپائی پر بیٹھنا

Fatwa no.
540-FAM
Issued
08 ربیع الاول 1446ھ / 13 ستمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک شخص چار پائی کی آڑ میں نماز پڑھ رہا ہو، تو کیا کوئی شخص اس چار پائی پر بیٹھ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جس چار پائی کی آڑ میں کوئی شخص نماز پڑھ رہاہو ، تو اگر اُس چار پائی پر کوئی شخص اس جہت پر بیٹھے کہ نمازی کے سامنے ، بیٹھنے والے شخص کا منہ نہ ہو تا ہو ، تو اس طرح منہ کیے بغیر اس چار پائی پر بیٹھ سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں، البتہ نمازی کے سامنے منہ کر کے نہیں بیٹھ سکتا، کیونکہ نمازی کے سامنے کسی شخص کا بغیر کسی حائل (رکاوٹ) کے منہ کرنا، مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے ، ہاں اگر نمازی اور چار پائی پر بیٹھنے والے شخص کے درمیان میں کوئی ایسی چیز حائل ہو کہ جس کی وجہ سے نمازی کے کھڑے اور بیٹھنے ، دونوں صورتوں میں نمازی کا سامنانہ ہو تا ہو ، تو اب اس طرح سامنے بیٹھنے پر بھی کوئی کراہت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.